ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ، بھگواء ملزمین کا بم دھماکوں کے شہیداور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ قبول کرنے سے انکار

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ، بھگواء ملزمین کا بم دھماکوں کے شہیداور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ قبول کرنے سے انکار

Tue, 13 Nov 2018 01:20:15    S.O. News Service

ممبئی:12/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مالیگاؤں 2008 ء بم دھماکہ معاملے میں آج یہاں تین بھگوا ء ملزمین نے بم دھماکوں میں شہید ہونے والے ۶؍ مسلم نوجوان اور 101/ زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ ڈاکٹروں کو گواہی کے لیئے طلب کرے جنہوں نے میڈیکل رپورٹ مرتب کی تھی ۔متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) لیگل سیل کے وکلاء شاہد ندیم، ابھیشیک پانڈے جو آج خصوصی این آئی اے عدالت میں موجود تھے کے مطابق آج ملزمین رمیش شیواجی اپادھائے، کرنل شریکانت پروہیت اور سدھاکر دھر دویدی کے وکلاء نے خصوصی جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ وہ وہ استغاثہ کی جانب سے داخل کی گئی میڈیکل رپورٹ کو قبول کرنے کو تیار نہیں حالانکہ دیگر ملزمین پرگیا سنگھ ٹھاکر، سمیر شرد کلرنی، اجئے راہیکر، سدھاکر اومکارناتھ چترویدینے میڈکل رپورٹ کو قبول کرلیا۔تین ملزمین کی جانب سے میڈکل رپورٹ قبول (ایڈمیٹ ) نہیں کیئے جانے پر خصوصی جج نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملزمین کا یہ فیصلہ عدالتی کام کاج میں رخنہ اندازی اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنا ہے کیونکہ عموماً میڈیکل رپورٹ کو ملزمین ایڈمیٹ کرلیتے ہیں تاکہ گواہوں کی فہرست کو تجاوز ہونے سے بچایا جاسکے ۔ عدالت نے آج کی کاررائی کے بعد سماعت ۱۵؍ نومبر تک ملتوی کردی۔اسی درمیان سپریم کورٹ نے کرنل شریکانت پروہیت کی اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں اس نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اسٹے دینے والی عرضداشت پر جلد سماعت کی گذارش کی تھی۔ آج چیف جسٹس آف انڈیا نے کرنل پروہیت کے وکلاء کوبتایاہے کہ وہ ۲۰؍ نومبر کے بعد عدالت سے اس تعلق سے رجوع ہو۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ بھگواء ملزمین کا میڈکل رپورٹ ایڈمیٹ کرنے سے انکار کرنا اس بات کا اشارہ ہیکہ وہ مقدمہ کی سماعت نہیں ہونے دینا چاہتے نیز وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ جج کے سامنے مقدمہ کی سماعت شروع نہ ہوسکے ورنہ عام طو ر پر استغاثہ کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی میڈکل رپورٹوں کو ملزمین بآسانی قبول کرلیتے ہیں ۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں خصوصی این ائی اے عدالت نے ۷؍ ملزمین کے خلاف چار فریم کردیا تھا جس کے بعد استغاثہ نے عدالت میں میڈکل رپورٹ سمیت گواہوں کی فہرست پیش کی تھی جس پر عدالت نے ملزمین سے جواب طلب کیاتھا۔


Share: